September 21, 2020

عرب امارات-اسرائیل تعلقات کے قیام کے بعد کیا خطے میں نئی جنگ کا خطرہ؟

متحدہ عرب امارات نے جب پچھلے ہفتے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو مسلم دنیا میں کئی طرح کا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ کسی نے اسے فلسطینیوں کے ساتھ دھوکہ کہا تو کوئی اسے تاریخی معاہدہ قرار دیتا رہا اور باخبر حلقوں نے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں ’نارملائزیشن‘ کو ’فارملائزیشن‘ کے طور پر دیکھا۔

اسرائیل اور عرب امارات کے باضابطہ سفارتی تعلقات کا معاہدہ اس قدر سادہ معاملہ نہیں۔ بلکہ اس معاہدے کے بعد خطے میں ایک اور جنگ کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ریاستوں میں عرب بالادستوں کے ذریعے فوجی بغاوت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات اور خفیہ اتحاد تو پرانی بات ہے، لیکن اب یہ تعلقات باضابطہ اور علی الاعلان ہو رہے ہیں اور یقینی طور پر اس کے بھی کئی عوامل ہیں۔

سب سے پہلا محرک عرب بادشاہتوں کا خوف ہے جو عرب بہار کے دوران پیدا ہوا۔ عرب بہار کے دوران بادشاہتوں کو اندازہ ہوا کہ پولیٹیکل اسلام ان کے لیے بڑا خطرہ ہے، اور جبر اور کرپشن کے خلاف کوئی بھی مقبول تحریک ان کی بادشاہتوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ امریکا جیسی عالمی طاقت بھی اپنے کٹر اتحادی حسنی مبارک کو ایسی تحریک میں کوئی مدد نہ فراہم کرسکی اور اخوان المسلمین کی مقبول تحریک نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ پھر اس دوران تیونس، سوڈان سمیت کئی مثالیں ابھر کر سامنے آئیں۔

عرب بہار کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال بھی بدلنے لگی۔ امریکا کوشش کے باوجود شام کے صدر بشارالاسد کو ہٹانے میں ناکام رہا۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد بھی امریکا نے سعودی عرب کی مدد کے لیے کوئی فوجی قدم نہ اٹھایا۔ عرب بادشاہتیں جو اپنی بقا کے لیے امریکا اور یورپی اتحادیوں پر عشروں سے انحصار کرتی آئی ہیں انہیں احساس ہوا کہ اب یہ اتحادی شاید ان کے کام نہ آسکیں۔

ایران نے خطے میں پراکسی جنگ تیز کی اور اسے لبنان، شام اور عراق سے بڑھا کر یمن تک لے گیا، جس کے بعد عرب بادشاہتوں کو خطرے کا احساس بڑھ گیا۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے نے عرب ریاستوں میں خوف پیدا کردیا تھا اور انہیں لگا کہ واشنگٹن اب ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور ایران کو صرف پابندیوں کے بوجھ تلے دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔

امریکا کے مقابلے میں اسرائیل کی ایران مخالفت میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی۔ اسرائیل ان تمام عرب ریاستوں کو یقین دلاتا رہا ہے جن کے اس سے تقریباً 60 کی دہائی سے خفیہ تعلقات ہیں کہ وہ ایران کے مقابلے میں ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔

عرب ریاستیں جو بظاہر اسرائیل کی مخالف اور فلسطینیوں کی ہم نوا تھیں، خفیہ رابطوں میں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاملات میں عملی تعاون کرتی رہیں، اور اسی تعاون کے نتیجے میں لبنان اور شام میں اسرائیل ایرانی مفادات پر بمباری کرتا رہا اور ایران کی جوہری تنصیبات اسرائیلی حملوں کی زد میں رہیں۔

اسرائیل عرب تعلقات ایک عرصے تک خفیہ رہے لیکن 2009ء میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے خفیہ تعلقات کو منظرِ عام پر لانے کی پالیسی اپنائی۔ جس کے بعد تعاون کے چھوٹے چھوٹے سفارتی اقدامات چلتے رہے، اور پھر بڑا قدم اسرائیل نے اس وقت اٹھایا جب انٹرنیشنل رینیوبل انرجی ایجنسی کے ہیڈکواٹرز عرب امارات میں بنانے میں سفارتی مدد کی، لیکن اس کے بدلے ایک شرط یہ رکھی کہ اس کے سفارت کاروں کو ان کے ہیڈکوارٹرز میں تسلیم کرنا پڑے گا۔

2015ء میں اسرائیل نے ایجنسی ہیڈکوارٹرز میں سفارتی مشن کھولا تو یوں عرب امارات میں اسرائیل کا پہلا سفارتی دفتر بن گیا۔ اس طرح ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے اب پورا جال بن چکا ہے۔ یہ اوباما دور کی بات ہے جب خلیج میں امریکی فوجی موجودگی کم ہونا شروع ہوئی جسے ٹرمپ نے بھی جاری رکھا، ان حالات میں اسرائیل عرب ریاستوں کا فطری اتحادی بنتا چلا گیا جو خطے میں موجود ہے اور وہاں سے نکل نہیں سکتا۔

عرب ریاستوں نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ تعاون جاری رکھا لیکن فلسطین کے مسئلہ پر بھی مؤقف برقرار رکھا۔ اسرائیل اس سے بالکل بھی بددل نہ ہوا اور عربوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے متعلق کام جاری رکھا۔

مزید پڑھیے: کیا عرب ممالک فلسطین کو دھوکہ دے رہے ہیں؟

اس کی ایک مثال واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب ہے، جہاں سعودی سفارت کار نے اسرائیلی ہم منصب سے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین حل کریں تاکہ اسرائیل عرب علاقائی تعاون کو آگے بڑھایا جاسکے۔ جس پر اسرائیلی سفارت کار کے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئی اور اس نے جواب دیا کہ خطے میں تبدیلی کی چابی فلسطینیوں کے ہاتھ میں کیوں دیتے ہو؟

اسرائیل نے برسوں عرب ریاستوں کے ساتھ تعاون کو چھپانے کی کوشش کی تاکہ تعاون کرنے والی ریاستوں میں عوام حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں لیکن نیتن یاہو نے پالیسی بدل دی۔ امریکا میں ٹرمپ کے صدر بنتے ہی حالات نے مزید پلٹا کھایا اور ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اپنے داماد جارڈ کشنر کو ذمہ داری سونپ دی۔ جارڈ کشنر نے عرب شہزادوں کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کیے، ڈیل آف دی سنچری کے نام سے منصوبہ تیار ہوا، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ کھڑے ہوکر اس منصوبے کا اعلان کیا تو عرب امارات اور بحرین کے نمائندے بھی وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں موجود تھے۔ ٹرمپ کے منصوبے کو عرب عوام میں پذیرائی نہ ملی لیکن عرب نمائندوں کی موجودگی پر احتجاج بھی نہ ہوا، جس نے عرب حکمرانوں کو حوصلہ دیا۔

بظاہر تو عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان اچانک ہوا لیکن اس پر کام ڈیڑھ سال سے جاری تھا اور 2 ماہ پہلے یہ معاہدہ طے پاچکا تھا، جسے صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے انتخابات کے لیے محفوظ رکھا گیا۔ عرب امارات نے یہ اعلان امریکی صدارتی انتخاب سے 82 دن پہلے کرکے ٹرمپ کو خارجہ پالیسی محاذ پر ایک تحفہ دیا۔ جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے بھی انتخابات کے دوران ڈیل آف دی سنچری کے اعلان کا بدلہ چکا دیا۔

2 ماہ پہلے معاہدے یا ڈیل کا ثبوت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تاریخ یکم جولائی دی تھی لیکن یکم جولائی آکر گزر گئی اور اسرائیلی وزیرِاعظم نے منصوبے پر عمل روک دیا اور اس کی وضاحت بھی پیش نہیں کی۔

امریکیوں نے غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا پتہ بہت ہوشیاری سے کھیلا اور غرب اردن پر قبضہ روکنے کی ہامی بھر کر امارات سے ڈیل کرلی۔ اس ڈیل میں امارات کے واشنگٹن میں سفیر یوسف العتیبہ اور ان کے یہودی دوستوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یوسف العتیبہ نے جون میں اسرائیلی اخبار میں ایک کالم عبرانی زبان میں شائع کرایا، جس کی اشاعت میں بااثر امریکی یہودیوں نے کردار ادا کیا۔

اس کالم میں کہا گیا کہ اسرائیل غرب اردن پر قبضے اور عرب دنیا سے تعلقات میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔ یہ پیغام اسرائیل کے شدت پسند یہودیوں کے لیے امریکا کے لبرل یہودیوں کی طرف سے تھا۔ اس پیغام نے اثر دکھایا اور جون کے اختتام پر یوسف العتیبہ نے وائٹ ہاؤس میں جارڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب ایوی برکووٹز سے رابطہ کیا اور یہی تجویز ان کے سامنے رکھی کہ اسرائیل غرب اردن کو ضم کرنے کا منصوبہ روک دے تو عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

جارڈ کشنر کو تجویز پسند آئی اور اس پر کام شروع ہوگیا۔ نیتن یاہو کو منصوبے سے باز رکھنے کے لیے وائٹ ہاؤس نے شرط رکھی کہ اگر غرب اردن کے بڑے حصے کو ضم کرنا ہے تو اس کا 5 سے 10 فیصد حصہ فلسطین کو منتقل کرنے پر بھی ساتھ ہی عمل کیا جائے۔ وائٹ ہاؤس کو یہ بھی اندازہ تھا کہ اسرائیلی حکومت غرب اردن کو ضم کرنے پر تقسیم کا شکار ہے، اس لیے نشانہ ٹھیک جگہ لگا اور نیتن یاہو کو بھی عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کا خواب پورا ہوتا دکھائی دیا، اور یوں یہ معاہدہ طے پاگیا۔ 7 دن میں درجنوں ملاقاتوں اور رابطوں کے نتیجے میں معاہدے کا مسودہ بھی بن گیا اور اسے درست وقت تک چھپا لیا گیا۔

عرب امارات کے اعلان کے بعد اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں جشن کا سماں تھا اور ساتھ ہی یہ اندازے لگائے جانے لگے کہ امارات کے بعد کون یہ جرأت دکھائے گا؟ سعودی عرب سمیت 5 ملکوں کے نام آئے۔

امارات کے اعلان کے بعد پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی۔ سوئے اتفاق یہ تھا کہ اس اعلان سے پہلے پاک سعودی تعلقات میں اچانک تلخی آچکی تھی، اور اس تلخی کو اسرائیل کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی اور یہ دعوے کیے گئے کہ پاکستان پر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ تھا اور یہ دباؤ ہی تعلقات کی خرابی کی وجہ بنا کیونکہ پاکستان نے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا۔

مزید پڑھیے: اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد لینڈنگ کی ’افواہ‘، آخر مشن تھا کیا؟

سوشل میڈیا پر انقلابیوں کے تبصروں نے عوامی رائے کو شدید متاثر کیا اور دو برادر ملکوں کے حکمرانوں کے اختلافات کو عوامی جذبات سے کھیلنے کے لیے استعمال کیا گیا اور سیاسی اسکورنگ کی بھرپور کوشش اب بھی جاری ہے۔

پاک سعودی تعلقات میں اس رخنے کو دُور کرنے کے لیے عسکری قیادت دورہ ریاض پر روانہ ہوئی تو قیاس آرائیوں کا نیا جھکڑ چلا۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ جارڈ کشنر اور ولی عہد محمد بن سلمان کی دوستی اپنی جگہ، مگر سعودی مؤقف اب تک وہی ہے جو برسوں پہلے تھا۔

امارات کے اعلان کے بعد ایک ہفتے تک سعودی خاموشی نے بھی قیاس آرائیوں کو ہوا دی لیکن برلن میں جرمن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں لیکن یہ رپورٹ کرنے والے بھول گئے کہ حتمی فیصلہ شاہ سلمان نے کرنا ہے۔ شاہ سلمان فلسطین کاز کے ساتھ مخلص ہیں اور جنوری میں فلسطینی وزیرِاعظم محمود عباس کو یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ سعودی عرب فلسطین اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

عرب امارات کی پوزیشن سعودی عرب سے الگ ہے، سعودی عرب حرمین شریفین کی وجہ سے مسلم دنیا میں الگ مقام رکھتا ہے اور مسلم امّہ کی سیادت کا بھی دعویدار ہے، اور ترکی، ملائشیا اور ایران کی طرف سے سیادت کی دعویداری کا مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ اس لیے ان حالات میں سعودی عرب کے لیے ایسا کوئی بھی فیصلہ بہت مشکل ہوگا۔ لیکن اگر سعودی عرب کو مستقبل میں اسرائیل کو تسلیم کرنا بھی پڑا تو فلسطینیوں کے لیے رعایتیں لینے کے بعد ہی کچھ ہوسکے گا۔

امریکی حکام بھی اب تک یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ سعودی عرب اپنے اتحادی متحدہ عرب امارات کی تقلید کرے گا یا نہیں، اسی لیے جارڈ کشنر کو کہنا پڑا کہ سعودی عرب اگر امارات کی تقلید کرے تو اسے معاشی اور دفاعی فوائد حاصل ہوں گے۔

جہاں تک بحرین کی بات ہے تو بحرین سعودی عرب اور عرب امارات کی معاشی مدد پر انحصار کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے بھی فیصلہ کرنے میں دشواری ہوگی۔ بحرین علاقائی ردِعمل کو جانچنے کے بعد ہی فیصلہ کرے گا۔

ایک اور نام عمان کا ہے لیکن عمان بھی شاید ایران کو مشتعل نہیں کرنا چاہے گا۔ کویت نے کھل کر کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا آخری ملک ہوگا۔ سوڈان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اشارہ دیا لیکن اگلے ہی روز وزیر خارجہ نے نہ صرف تردید کردی بلکہ ترجمان کو بھی برطرف کردیا گیا۔ سوڈان کی تردید اور اس ایکشن کے باوجود اس پر حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے نے کسی موقع پر زور پکڑا تو عرب ریاستیں مشترکہ فیصلہ کریں گی لیکن دیگر مسلم ملکوں کو بھی مجبور کرنے کی کوشش کریں گی، ایسی صورت میں کئی ملکوں میں فوجی بغاوت کے خدشات موجود ہیں۔ اس کی مثال سوڈان کے صدر عمر البشیر اور مصر کے صدر حسنی مبارک سے ہونے والا سلوک ہے۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر کو عرب امارات اور سعودی عرب ایک عرصے تک اس لیے بھاری مالی امداد دیتے رہے کہ وہ ایران کے اثر سے باہر رہے، اور سوڈانی صدر اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئے، لیکن پھر ایک وقت آیا جب وہ ملک میں اخوان المسلمین پر قابو پانے میں ناکام رہے جس کے بعد ان دونوں ممالک نے یمن جنگ میں سعودی اتحاد کے ساتھ تعینات سوڈانی فوج کی معاشی مدد روک لی، اور یوں فوج نے عمر البشیر کے خلاف بغاوت کردی اور انہیں سعودی عرب سے ملنے والے کروڑوں ڈالر میں غبن کے جرم میں گرفتار کیا اور سزا دے دی گئی۔ پھر جیسے ہی فوجی حکومت قائم ہوئی تو دونوں ملکوں نے معاشی امداد بحال کردی۔

مصر میں جب اخوان کی حکومت بنی تو عرب امارات نے اس کے خلاف بغاوت کو منظم کیا اور مالی مدد دی جس کی بنیاد پر فوج نے صدر مرسی کو گرفتار کرکے اقتدار ہاتھ میں لے لیا۔

قطر میں بھی حکومت کے خلاف صرف اس لیے بغاوت کی کوشش ہوئی کیونکہ قطر اخوان لیڈروں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ امارات کے کہنے پر ہی سعودی قیادت نے عرب لیگ میں قطر کا مقاطعہ کیا۔ عرب بہار نے تو چند ایک ملکوں میں حکومتوں کا تختہ بھی الٹا اور دم توڑ گئی لیکن اس عرب بہار کے خلاف عرب امارات نے جو مہم شروع کی تھی وہ اب تک جاری ہے۔

عرب امارات مشرقِ وسطیٰ میں خود کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت تصور کرتا ہے اور خود کو فوجی اعتبار سے سعودی عرب اور مصر سے بہتر اور مضبوط سمجھتا ہے۔ امارات مشرقِ وسطیٰ میں نئے تھانیدار کے کردار کی تیاری کر رہا ہے۔ اس تھانیداری کا ثبوت لیبیا میں امارات کا کردار ہے جہاں وہ خلیفہ ہفتار کی حمایت میں ترکی کے مقابل کھڑا ہے۔

اگر اسرائیل اور امارات کی بات کریں تو ان کے کچھ مشترکہ دشمن ہیں، جیسے پولیٹیکل اسلام، ایران اور ترکی اور دونوں ان دشمنوں کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

ترکی میں 2016ء کی بغاوت میں امارات کی مالی مدد کے الزامات اور رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔ لیبیا کے الوطیہ ایئر بیس پر ترکی کی ایئر ڈیفنس بیٹریز پر حملہ ہوا تو امارات کے شاہی دیوان سے وابستہ ایک مشیر عبدالخالق عبداللہ نے ٹویٹ کی کہ تمام عربوں کی طرف سے عرب امارات نے ترکی کو سبق سکھا دیا، بعد میں عبدالخالق عبداللہ نے ٹویٹ ڈیلیٹ کردی۔

عرب امارات کے وسیع عزائم کسی بھی وقت سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اختلافات کا سبب بن سکتے ہیں، یمن میں امارات پہلے ہی سعودی مفادات کے برعکس کام شروع کرچکا ہے۔

عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ممکنہ نتائج میں سے ایک خطے میں نئی جنگ کا چھڑنا ہے۔ جارڈ کشنر نے اس فیصلے پر کہا کہ ’خلیج تعاون کونسل کے مزید ملک اسرائیل کے ساتھ بریک تھرو چاہتے ہیں۔ عرب امارات اور اسرائیل کی طرح جتنے زیادہ ملک قریب آئیں گے ایران کے لیے تقسیم کرکے فتح کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔ سعودی اسرائیل تعلقات کا سب سے بڑا مخالف ایران ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا درست فیصلہ ہے‘۔

جارڈ کشنر کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ امارات اور اسرائیل کے مابین ہونے والے امن معاہدے کا اصل نشانہ کون ہے۔ امریکا کے حالیہ اقدامات سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کیا ہے۔ امریکا نے ایران پر نئی اسلحہ پابندیوں کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی لیکن اس کے یورپی اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کردیا اور ایران کے خلاف امریکی قرارداد مسترد ہو گئی۔ اس قرارداد کے مسترد ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے پر تنہا رہ گیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ اپنے عزائم سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

امریکا سلامتی کونسل میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی ایک شق کے تحت پابندیاں لگانے کی تجویز پیش کرنے کو ہے، وہی جوہری معاہدہ جس سے امریکا یکطرفہ طور پر نکل چکا ہے لیکن اب پابندیوں کے لیے اسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ وینزویلا کو بھجوایا گیا تیل بھی قبضے میں لیا گیا۔ امریکا کی یہ کوششیں ایران کو اشتعال دلانے کے لیے ہیں، اس سے پہلے جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت بھی ایران کو مشتعل کرنے کی کوشش تھی۔

2018ء میں صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے خفیہ آپریشنز کی بھی اجازت دی تھی۔ حال ہی میں ایران کی جوہری تنصیبات میں دھماکے بھی ایران کو کسی جارحانہ اقدام پر اکسانے کی کوشش تھی اور اسرائیل اس میں شریک تھا۔ کسی بھی مرحلے پر اگر ایران نے اشتعال میں کوئی کارروائی کی تو امریکا جنگ چھیڑنے میں دیر نہیں کرے گا، اور ایران اگر میدانِ جنگ بنا تو دوسرے کھلاڑی بھی کود پڑیں گے اور خطہ ایک اور مستقل جنگ کا شکار بن جائے گا۔

اگر ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کے پُر امن حل کے خواہاں ہیں تو عالمی معاہدہ اس کا بہترین حل تھا لیکن ٹرمپ نے اس سے یکطرفہ نکلنے کا اعلان خود کیا۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اسرائیل کا ساتھ دینے اور اسے تسلیم کرنے والوں کو بعد میں پچھتانا پڑا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے خطے میں خوشحالی آئے گی اور اسرائیل کے دوست بننے والے ملک معاشی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط ہوں گے، لیکن اسرائیل کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے اردن اور مصر کا حال سب کے سامنے ہے۔

یہ دونوں ہی ممالک آج پہلے کی نسبت کمزور اور منقسم ہیں۔ یہ دونوں ملک کبھی خود کو خطے میں امن کا بانی کہتے تھے لیکن آج پچھتاتے ہیں کہ انہیں امن کے نام پر کیا ملا۔ ان دونوں ملکوں کے ساتھ جو معاشی وعدے کیے گئے تھے آج تک پورے نہیں ہوئے۔ مسئلہ فلسطین آج بھی حل طلب ہے اور ارضِ فلسطین مزید سکڑ گئی ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والی فلسطینی تنظیم الفتح بھی آج خود سے سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ اس نے اوسلو معاہدے سے کیا پایا؟ یہ سوال الفتح کو اپنی حریف تنظیم حماس کے قریب جانے پر مجبور کر رہا ہے۔